گداگری ایک پیشہ ہے یا معاشرے کے غریب طبقے کی مجبوری


 آج کے ہمارے معاشرے میں گداگری نہ صرف ضرورت ہے بلکہ پیشہ بن چکا ہے ، پیشہ وربھکاری میدان میں آگئے ہیں وہ گداگر جو کبھی مساجد کے باہر ملا کرتے تھے یا بازار جانے پر ایک طرف سر جھکائے بیٹھے نظر آتے تھے اب وہ ہر گلی ہر محلے ہر بازار و سڑک پر عام نظر آتے ہیں نہ صرف نظر آتے ہیں بلکہ بھیک مانگنے کے کیئے پیروں میں بھی گر پڑتے ہیں وہ فقیر جو کبھی اللہ کے نام پر ہاتھ اٹھائے راستوں سے گذرا کرتے تھے اب انکی جگہ پیشہ ور بھکاریوں نے لے لی ہے جو ہر بندے کو پکڑ کر ، راستہ روک کر، دروازہ کھٹکھٹا کر بھیک وصولنے کو حق سمجھنے لگے ہیں۔ اکثر تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کم بھیک ملنے پر بھکاری آپکو صلوٰتیں سنا کر نکل جاتے ہیں۔

[adinserterblock=”15″]

گداگروں کو گلی محلے سڑکوں یا بازاروں میں دیکھنا معمول کی بات ہے۔ اب تو ہم انہیں نظر انداز کرنا بھی سیکھ گئے ہیں۔ آج کے دورمیں وہی پیشہ ور بھکاری کامیاب ہیں جو کبھی ہاتھ تو کبھی دوپٹہ پکڑ کر بھیک مانگتے ہیں باقی جو کسی کونے کھدرے میں بیٹھا ضرورت مند ہے وہ ہماری عنایتوں سے محروم رہ جاتا ہے

۔ اسکی مدد تو دور ہم اس پر نگاہ بھی نہیں ڈالتے ہیں۔ بھکاریوں میں کئی قسمیں ہیں جنہیں ہم معمولی تصور کرتے ہیں وہ قطعی معمولی نہیں یہ ایک شرم کا مقام ہے اسلامی ریاست کے لیئے، اسکے حکمرانوں کے لیئے کہ انکے دور حکومت میں گداگری اس قدر عروج پر ہے۔ یہ غریبی کو ظاہر نہیں کرتی نہ یہ بےروزگاری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ تو وطنِ عزیز کے حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس پر کسی کا دھیان اس انداز میں نہیں پڑتا جیسے کہ پڑنا چاہیئے ، ہمارے حکمران اپنی آرام گاہوں سے نکلتے ہیں تو ذیادہ تر ٹی وی پرآنے کے لیئے، باقی کوئی دلچسپی انہیں پاکستان یا اس کے مسائل کو حل کرنے میں تونظر نہیں آتی ہے۔

بھکاریوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں جو ہمیں اکثرو بشتر دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں ایک وہ جو بھیک ضرورتاً مانگتے ہیں جو کسی محتاجی یا جسم کی معذوری کی بنا پر، ایسے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں جو کسی راہ گذر سے الگ خاموش سے بیٹھے ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو نکمے ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کے اہل خود کو نہیں پاتے ہیں اور اپنے بچوں کو لے کر سڑکیں ناپ رہے ہوتے ہیں، تیسری وہ خواتین جو اپنے مردون کی ہڈ حرامی سے تنگ آکر بھیک مانگنے کے لیئے نکلتی ہیں ،اس سے آسان کام کوئی ہو ہی نہ جیسے، کچھ حضرات وخواتین اسے پیشہ بنا کر اپنی عیاشیوں کے لیئے استعمال کرتے ہیں ان میں وہی بھکاری مدد کے مستحق ہیں جو مجبور ہو کر بھیک مانگتے ہیں ان کے علاوہ سبھی کے ضمیر مردہ لگتے ہیں انہیں بھیک مانگتے ہوئے شرم جیسے باڈرز یاد نہیں رہتے ہیں کیونکہ حقیقتاً دیکھا جائے تو بھکاری بننے سے ذیادہ شرمندگی کسی شے میں ہے ہی نہیں۔

اور آخر میں سب سے مظلوم قسم بچوں پر مشتمل ہوتی ہے، یہ بچے آپکو جو اکثر بھکاری بن کے ملتے ہیں ان میں اکثر ضرورتاً اور انکی اکثریت مجبوراً بھیک مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ یہ یرغمال ہوتے ہیں کچھ درندہ صفت لوگوں کے، جو خود تو کچھ نہیں کرتے مگر بچوں کو کبھی اغوا تو کبھی تشدد کرکے ذبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کردیتے ہیں، یہ قسم خطرناک ترین حد تک خطرناک ہے۔ اکثر جب بھی کبھی ایسا تشدد کا کوئی واقعہ یا کسی بھی معاملے میں بچوں پر تشدد ہوا ہے تو ہماری حکومتی افراد یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ سبھی بچے ہمارے بچے ہیں مگر ہماری سوئی ہوئی حکومت کو جاگنے کی ضرورت ہے کیونکہ انکے بچے کس کس جال میں پھنسے ہیں انہیں تو خبر بھی نہیں ہے.

اگر احساس ہوتا تو یہی بہت تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں ننھنے فرشتے بھیک جیسا کام کرکے اپنی ذہن و سوچ کو غلط سمت لے جاتے ہیں اور بڑے ہو کر انکے مجرم بننے پر سارا قصور انہی حکمرانوں کے سر جانا چاہیئے، حقیقت کہوں تو یہ کہنا کہ سب انکے بچے ہیں یہ صرف لفظوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے کیونکہ باخدا اگر انکے کسی بچے کو سڑک پر کٹورا لے کر بھیک مانگنے کے لیئے کھڑا کر دیا جائے تو ایسا کرنے والے کی نسلوں تک کو قتل کرواکے انکے بزرگوں کی روحوں کو بھی شرمندہ کر دیں نہ صرف اتنا بلکہ ایسا سوچنے اور کہنے والے کو بھی مودی بن کر ینتہا پسندی کی حد کرتے ہوۓ ان پر زندگی تنگ کردیں سو انکے الفاظ بس لفظوں تک ہی محدود ہیں

، پھر بھی التجا انہی کے گوش گذارکرنی ہے کہ ہمارے معاشرے کو اس بڑھتی گداگری کو فروغ دینے کی ضرورت نہیں ہے اسے اب زوال آہی جانا چاہیئے کہ جہاں آپ میٹرو جیسی سروسسز متعارف کروارہے ہیں اسی ملک و قوم کے بچے ان اسٹیشنز پر بھیک مانگنے کے لیئے کھڑے ہوتے ہیں یہ ترقی ہے یا قوم کی پسپائی، جو عوام کے حقوق سے ذیادہ میٹروجیسے اور کئی منصوبوں پر توجہ لگائے ہوئے ہے۔ اب ان حکومتی اداروں کو جاگنے کی ضرورت ہے یا پھر یہ ہوش میں تب آئیں گے جب سگنل پر انکی گاڑی رکے گی اور بھکاری ان کی گاڑی کا شیشہ ٹھونک کر بھیک مانگیں گے مگر ایسا تو ممکن نہیں کیوں کہ جب انکاگذر ہوتا ہے تو اس راستے پر عام انسان نہیں ہوتے بھکاری تو بہت کمتر شے پھر۔۔ سو التجا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی اس بُرائی کا توڑ نکال لیں کہ یہ وطنِ عزیز کا غلط رُخ اور برا زاویہ پیش کرتی ہے-

!function(f,b,e,v,n,t,s){if(f.fbq)return;n=f.fbq=function(){n.callMethod?
n.callMethod.apply(n,arguments):n.queue.push(arguments)};if(!f._fbq)f._fbq=n;
n.push=n;n.loaded=!0;n.version=’2.0′;n.queue=[];t=b.createElement(e);t.async=!0;
t.src=v;s=b.getElementsByTagName(e)[0];s.parentNode.insertBefore(t,s)}(window,
document,’script’,’//connect.facebook.net/en_US/fbevents.js’);

fbq(‘init’, ‘883634955083708’);
fbq(‘track’, “PageView”);(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.4”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));